نئی دہلی،14؍ نومبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے حکومت پر‘کوآپریٹیو فیڈرلزم’کی دھجیاں اڑانے کا الزام عائدکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے پٹرول ڈیزل پر ٹیکس لگا کر جو کمائی کی ہے اس کا حصہ ریاستوں کو نہیں دیا ہے۔ مسٹر چدمبرم نے ہفتے کے روز یہاں ایک بیان میں کہا کہ کیرلاکے وزیر خزانہ نے ایک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت تیل سے کی گئی کمائی ڈکار رہی ہے اور اس پیسے میں ریاستوں کو برائے نام انھیں حصہ دار بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیرلا کے وزیر خزانہ نے پٹرول اور ڈیزل پر اکٹھا کیے گئے ٹیکس کے اعداد و شمار کا انکشاف کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2020-21 ء ایکسائز ڈیوٹی، سیس اور ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی کے طور پر مرکز نے 372000 کروڑ روپے اکٹھا کیے ہیں۔ ان میں محض 18000 کروڑ روپے بنیادی ایکسائز ڈیوٹی کے طور پر اکٹھا کیے اور اس رقم کا 41 فیصد ریاستوں کے ساتھ اشتراک کیا تھا۔ اس میں باقی 354000 کروڑ روپے مرکز کے پاس گئے ’۔ کانگریس کے رہنما نے کہا کہ اگر یہ حقیقت ہے اور کیرلا کے وزیر خزانہ کی مخالفت نا مناسب ہے تو مرکزی وزیر کو خاموش رہنے کے بجائے اس کا جواب دینا چاہیے۔مسٹر چدمبرم نے سوال کیا کہ مرکزی حکومت کو بتانا چاہیے کہ پٹرول-ڈیزل پر لگائے گئے ٹیکس سے جمع کی گئی 354000 کروڑ روپے کی بڑی رقم کہا ں اور کیسے اور کس مد میں خرچ کی گئی۔ مرکز کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس نے اتنی بڑی رقم اپنے پاس کیوں رکھی؟ انہوں نے طنز کیا کہ مودی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے‘کوآپریٹیو فیڈرلزم’کا ماڈل ہے۔مسٹر چدمبرم نے نوٹ بندی کے حوالے سے بھی حملہ کیا اور کہا کہ نوٹ بندی کے وقت زیر استعمال نقدی تقریباً 18 لاکھ کروڑ تھی جو آج 28.5 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ ملک میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔ غریب اور اور لوئر مڈل کلاس کے عوام کم نقد کماتے ہیں اور کم نقد خرچ کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم در اصل کم نقدی والی معیشت بن گئے ہیں، شاباش! خوں آشام نوٹ بندی کے پانچ سال بعد، مودی حکومت کے لمبے چوڑے اعلانات کی صورتحال کیا ہے؟’کانگریس کے رہنما نے کہا کہ وزیرا عظم نریندر مودی نے پہلے کہا تھا کہ ملک کو کیش لیس معیشت بننا چاہیے! کچھ ہی دنوں میں انہوں نے محسوس کیا کہ یہ ایک بے تکا ہدف تھا لہٰذا ہدف کو کم نقد معیشت میں ترمیم کر دیا’۔